تحریر: سردار حسین کریمی
حوزہ نیوز ایجنسی| قرآنِ صامت وہ مکتوب قرآن جو اللہ تعالیٰ نے رسولِ خدا ﷺ پر نازل فرمایا، جو الفاظ و آیات کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ قرآنِ ناطق وہ ہستیاں جو قرآن کی زندہ، عملی اور تشریحی صورت ہیں؛ یعنی رسولِ اکرم ﷺ اور ان کے بعد اہلِ بیتِ اطہارؑ (خصوصاً ائمہؑ)۔
الٰہی تعلق کی بنیاد:
قرآن ناطق اور قرآن صامت کا تعلق خود اللہ کے حکم سے قائم ہے، نہ کہ محض فکری یا تاریخی ربط سے: وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ۔(النحل: 44)یعنی قرآن کی تبیین و توضیح رسولِ خدا ﷺ کی ذمہ داری ہے، اور یہی تبیین اہلِ بیتؑ کے ذریعے جاری رہتی ہے۔
حدیثِ ثقلین: تعلق کی واضح دلیل
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کا فرمان: "میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: کتابُ اللہ (قرآن) اور میری عترت (اہلِ بیتؑ)،یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر مجھ سے ملیں۔"
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ: قرآن صامت اور قرآن ناطق الٰہی منصوبے کے تحت ہمیشہ ساتھ ہیں۔
ایک دوسرے سے جدا ہو کر ہدایت مکمل نہیں ہوتی۔
تفسیر اور عمل کا رشتہ
قرآن صامت اصول، احکام اور ہدایت دیتا ہے۔جبکہ قرآن ناطق ان اصولوں کی صحیح تفسیر اور عملی تطبیق،باطنی و حقیقی مراد کو واضح کرتا ہے۔
امام علیؑ کا فرمان:"یہ قرآن ہے جو لکھا ہوا ہے، اور میں قرآن ہوں جو بولتا ہے۔"
عصمت اور حفاظتِ قرآن
قرآن ناطق (اہلِ بیتؑ) کی عصمت اس بات کی ضامن ہے کہ:قرآن کی تشریح میں تحریف نہ ہو۔باطل تاویلات سے حفاظت ہو۔ اسی لیے قرآن ناطق، قرآن صامت کا امین اور محافظ ہے۔
نتیجہ
قرآن ناطق اور قرآن صامت کا تعلق الٰہی، دائمی اور نا قابلِ انفصال ہے۔
قرآن صامت ہدایت کا متن ہے، اور قرآن ناطق ہدایت کا مجسم نمونہ۔
کامل ہدایت صرف اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب دونوں کو ساتھ لے کر سمجھا اور اپنایا جائے۔









آپ کا تبصرہ